عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، وَكَأَنَّ ظُبَةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ، فَأَوَّلْتُ أَنِّي أَقْتُلُ صَاحِبَ الْكَتِيبَةِ، وَأَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقْتَلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ گویا میں نے اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو بٹھا رکھا ہے اور گویا میری تلوار کا دستہ ٹوٹ گیا ہے، میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ میں مشرکین کے علم بردار کو قتل کروں گا (اور میرے اہل بیت میں سے بھی ایک آدمی شہید ہوگا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین کے علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ کو قتل کیا اور ادھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13825]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان