بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 57 از 109
حدیث نمبر: 13062 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا"، قَالَ: فَقِيلَ لِأَنَسٍ فَالْأَكْلُ؟ قَالَ: ذَاكَ أَشَدُّ أَوْ أَشَرُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیے میں نے کھانے کا حکم پوچھا تو فرمایا یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2024
الحكم: إسناده صحيح، م: 2024
حدیث نمبر: 13063 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَاصِمٌ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخبرنا عَاصِمٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ، حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہاں! یہ حرم ہے، اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرم قرار دیا ہے، اس کی گھاس تک نہیں کاٹی جاسکتی، جو شخص ایسا کرتا ہے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1867، م: 1367
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1867، م: 1367
حدیث نمبر: 13064 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذُوا عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ نماز میں مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ مسائل نماز سیکھ سکیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13065 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي فِي حُجْرَتِهِ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَخَفَّفَ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي وَيَنْصَرِفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْنَا مَعَكَ الْبَارِحَةَ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ، فَقَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ، وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز مختصر کرکے اپنے گھر تشریف لے گئے، ایسا کئی مرتبہ ہوا حتیٰ کہ صبح ہوگئی، تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نماز پڑھ رہے تھے، ہماری خواہش تھی کہ آپ اسے لمبا کردیتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر ہی ایسا کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13065]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13066 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا، فَرُئِيَ فِي وَجْهِهِ شِدَّةُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، أَوْ يَفْعَلْ هَكَذَا" وَأَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ، ثُمَّ دَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13066]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
الحكم: إسناده صحيح، خ: 405، م: 551
حدیث نمبر: 13067 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَخَذَتْ بِيَدِهِ مَقْدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَنَسٌ ابْنِي، وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ، أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چنانچہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2768، م: 2309.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2768، م: 2309.
حدیث نمبر: 13068 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، وَالْأَنْصَارِيُّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، وَالْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الْمَعْنَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنْ كَانَ ليُعْجِبُنَا الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، يَجِيءُ فَيَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَنَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟" فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ:" وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِذَلِكَ، وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: مِنْ كبيرِ عَمَلٍ، صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اس بات سے بڑی خوشی ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کرے، چنانچہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2639.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2639.
حدیث نمبر: 13069 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: سُئِلَ هَلْ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ صَلَّى، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ"، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک موخر کردیا اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 847.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 847.
حدیث نمبر: 13070 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا: کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7241، م: 1104.
حدیث نمبر: 13071 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ، وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ، فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ الْأُخْرَى، قَالَ لَهُمْ:" ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا مَعَهُ قُعُودًا"، قَالَ: وَنَزَلَ فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا! قَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف فرما ہوگئے، جس کی سیڑھیاں لکڑی کی تھیں اور ازواج مطہرات سے ایک مہینے کے لئے ایلاء کرلیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیادت کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے رہے، جب اگلی نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنے امام کی اقتداء کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھو، الغرض! ٢٩ دن گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے اتر آئے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے تو ایک مہینے کے لئے ایلاء فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 378، م: 411.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 378، م: 411.
حدیث نمبر: 13072 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ، فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ خَرَجَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ، فَيَأْتِي حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَيَدْعُو لَهُنَّ، وَيُسَلِّمْنَ عَلَيْهِ، وَيَدْعُونَ لَهُ، ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَابِ إِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ، وَثَبَا فَزِعَيْنِ فَخَرَجَا، فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ، أَوْ مَنْ أَخْبَرَهُ، فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ولیمے میں مسلمانوں کو خوب پیٹ بھر کر روٹی اور گوشت کھلایا، پھر حسب معمول واپس تشریف لے گئے اور ازواج مطہرات کے گھر میں جا کر انہیں سلام کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے دعائیں کیں، پھر واپس تشریف لائے، جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان گھر کے ایک کونے میں باہم گفتگو جاری ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دونوں کو دیکھ کر پھر واپس چلے گئے، جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھر سے پلٹتے ہوئے دیکھا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے، اب مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کے جانے کی خبر میں نے دی یا کسی اور نے، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر واپس آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13072]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5154، م: 1428.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5154، م: 1428.
حدیث نمبر: 13073 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً، وَأَبُو بَكْرٍ، حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَمَدَّ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری نمازیں قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع کردی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13073]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 473.
الحكم: إسناده صحيح، م: 473.
حدیث نمبر: 13074 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" مَا شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ مِسْكًا وَلَا عَنْبَرًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مَسِسْتُ قَطُّ خَزًّا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے عمدہ مشک و عنبر کی کوئی مہک نہیں سونگھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی ریشم بھی نہیں چھوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13074]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.
حدیث نمبر: 13075 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ الْمُهَاجِرُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ، وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ، لَقَدْ كَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ، وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأ، حَتَّى لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، قَالَ:" لَا، مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ، وَدَعَوْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں (انصار) ہم نے تھوڑے میں ان جیسا بہترین غمخوار اور زیادہ میں ان جیسا بہترین خرچ کرنے والا کسی قوم کو نہیں پایا، انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا اور اپنی ہر چیز میں ہمیں شریک کیا، حتیٰ کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سارا اجروثواب تو یہی لوگ لے جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، جب تک تم ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے دعاء کرتے رہو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13075]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13076 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ ، الْأَنْصَارِيُّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13076]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 2823، م: 2706.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 2823، م: 2706.
حدیث نمبر: 13077 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حدثنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ابْنًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ صَغِيرًا كَانَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِ، ضَاحَكَهُ، فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَبِي عُمَيْرٍ؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَ نُغَيْرُهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر! غمگین دکھائی دے رہا ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مرگئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہنے لگے اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6129.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6129.
حدیث نمبر: 13078 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ"، قِيلَ: أَوَشَيْنٌ هُوَ؟ قَالَ: كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ، إِنَّمَا كَانَتْ شُعَيْرَاتٌ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ، وأشار حُمَيد إلى مُقَدَّمَ لِحْيتِه.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13078]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2341.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2341.
حدیث نمبر: 13079 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ: تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں؟ فرمایا اسے ظلم کرنے سے روکو، یہی اس کی مدد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13079]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2443.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2443.
حدیث نمبر: 13080 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَخْلٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالُوا: قَبْرُ رَجُلٍ دُفِنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13080]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13081 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی، اس پر موٹی پھلی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13081]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12004.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12004.