يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حدثنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ابْنًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ صَغِيرًا كَانَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِ، ضَاحَكَهُ، فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَبِي عُمَيْرٍ؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَ نُغَيْرُهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ:" يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر! غمگین دکھائی دے رہا ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مرگئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہنے لگے اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6129.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6129.