يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَقَعَدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ، وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى بِهِمْ قَاعِدًا وَهُمْ قِيَامٌ، فَلَمَّا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ الْأُخْرَى، قَالَ لَهُمْ:" ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا مَعَهُ قُعُودًا"، قَالَ: وَنَزَلَ فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا! قَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بالا خانے میں تشریف فرما ہوگئے، جس کی سیڑھیاں لکڑی کی تھیں اور ازواج مطہرات سے ایک مہینے کے لئے ایلاء کرلیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیادت کے لئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے رہے، جب اگلی نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنے امام کی اقتداء کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھو، الغرض! ٢٩ دن گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے اتر آئے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے تو ایک مہینے کے لئے ایلاء فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 378، م: 411.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 378، م: 411.