بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 8 از 109
حدیث نمبر: 12081 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ كَانَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ، وَقَالَ سُفْيَانُ: مَرَّةً: فِي بَيْتِنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِهِمْ، وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک یتیم بچے کے ساتھ " جو ہمارے گھر میں تھا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تھے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12081]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 727
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 727
حدیث نمبر: 12082 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا، أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12082]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 221 ، م: 284
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 221 ، م: 284
حدیث نمبر: 12083 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12083]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1547 ، م: 690
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1547 ، م: 690
حدیث نمبر: 12084 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي أَيُّوبَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَكَانُوا يَفْتَتِحُونَ بِ الْحَمْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12084]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 399
الحكم: إسناده صحيح، م: 399
حدیث نمبر: 12085 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قِيلَ: لِسُفْيَانَ يَعْنِي سَمِعَ مِنْ أَنَسٍ ، يَقُولُ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لَا، حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَنَا، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ انہیں تقسیم کردیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کو ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تم صبر کرنا تاکہ آنکہ مجھ سے آملو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12085]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3794
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3794
حدیث نمبر: 12086 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: صَبَّحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، ثُمَّ أَحَالُوا يَسْعَوْنَ إِلَى الْحِصْنِ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"، فَأَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجَةً مِنَ الْقَرْيَةِ، فَاطَّبَخْنَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ" يَنْهَيَانِكُمْ عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ"، قَالَ سُفْيَانُ: مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، يَقُولُ: وَالْجَيْشُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، وہاں بستی میں ہمیں گدھے ہاتھ لگے، ہم نے انہیں پکا لیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں سے روکتے ہیں، کیونکہ یہ ناپاک اور شیطانی عمل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12086]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2991 ، م: 1940
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2991 ، م: 1940
حدیث نمبر: 12087 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ"، قَالَ سُفْيَانُ: نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا، قِيلَ لِسُفْيَانَ: فِيمَنْ نَزَلَتْ؟، قَالَ: فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، اس لشکر کے لوگوں کا نام ہی " قراء " پڑگیا تھا اور ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے پروردگار سے راضی ہوگئے اور اس نے ہمیں خوش کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3064 ، م: 677
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3064 ، م: 677
حدیث نمبر: 12088 مسند احمد
سُفْيَانَ ، عَاصِمًا ، أَنَسًا
(حديث موقوف) قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ عَاصِمًا ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ:" مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12088]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12089 مسند احمد
سُفْيَانَ ، عَاصِمًا ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَاصِمًا ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا"، قَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّهُ يَقُولُ آخَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12089]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2294 ، م: 2529
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2294 ، م: 2529
حدیث نمبر: 12090 مسند احمد
سُفْيَانُ ، التَّيْمِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ لَهُ حَادٍ، يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسٍ مَعَهُمْ، فَقَالَ:" يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سفر میں تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک حدی خوان تھا " جس کا نام انجشہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انجشہ ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6209 ، م: 2323
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6209 ، م: 2323
حدیث نمبر: 12091 مسند احمد
سُفْيَانُ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْبَيْدَاءِ" لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مقام بیداء میں حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک بعمرۃ وحجۃ معاً '' [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1251
الحكم: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 12092 مسند احمد
سُفْيَانُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، أَنَسٍ ، وَابْنُ سِيرِينَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَابْنُ سِيرِينَ ، قَالَ:" لَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَنَحَرَ هَدْيَهُ، حَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" وَأَعْطَى الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ حَلَقَ الْأَيْسَرَ، فَأَعْطَاهُ النَّاسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی اور جانور کی قربانی کرچکے تو سینگی لگوائی اور وہاں کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ بال حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو عام لوگوں کو دے دیئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1305
الحكم: إسناده صحيح، م: 1305
حدیث نمبر: 12093 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ جُدْعَانَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَهْدَى أُكَيْدِرُ دُومَةَ لِلنَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَعْنِي حُلَّةً، فَأَعْجَبَ النَّاسَ حُسْنُهَا، فَقَالَ:" لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ، أَوْ أَحْسَنُ مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12093]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2616، م: 2469, وهذا اسناد ضعيف من أجل ابن جدعان، وهو على بن زيد ابن عبدالله، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2616، م: 2469, وهذا اسناد ضعيف من أجل ابن جدعان، وهو على بن زيد ابن عبدالله، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12094 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ جُدْعَانَ ، ثَابِتٌ ، لِأَنَسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ: قَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ : يَا أَنَسُ،" مَسِسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَرِنِي أُقَبِّلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن جدعان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ثابت رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے انس! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ سے چھوا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو ثابت رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے وہ ہاتھ دکھائیے کہ میں اسے بوسہ دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12094]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 12095 مسند احمد
سُفْيَانَ ، ابْنِ جُدْعَانَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ مِنِ ابْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لشکر میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز میں ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12095]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابن جدعان، وهو ضعيف، تابعه ثابت البناني فى الحديث الآتي برقم: 13105
الحكم: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف ابن جدعان، وهو ضعيف، تابعه ثابت البناني فى الحديث الآتي برقم: 13105
حدیث نمبر: 12096 مسند احمد
سُفْيَانُ ، قَاسِمٌ الرَّحَّالُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ قَاسِمٌ الرَّحَّالُ أَنَسًا ، يَقُولُ: دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ خَرِبًا لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ يَقْضِي فِيهَا حَاجَةً، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مَذْعُورًا أَوْ فَزِعًا، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَسَأَلْتُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ أَهْلِ الْقُبُورِ مَا أَسْمَعَنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی ویرانے میں تشریف لے گئے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جایا کرتے تھے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھبرائے ہوئے ہمارے پاس آئے اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12097 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مَعْمَرٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُطِيفُ بِنِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ، يَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12097]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12098 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ ، وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، أنسا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ ، وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يقولان: سمعنا أنسا ، يَقُولُ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1089 ، م: 690
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1089 ، م: 690
حدیث نمبر: 12099 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ؟، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْمُزَفَّتَةِ"، وَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْمُزَفَّتَةُ؟، قَالَ: الْمُقَيَّرَةُ، قَالَ: قُلْتُ: فَالرَّصَاصُ، وَالْقَارُورَةُ؟، قَالَ: مَا بَأْسٌ بِهِمَا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا!، قَالَ: دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: صَدَقْتَ، السُّكْرُ حَرَامٌ، فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا؟، قَالَ: مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ، وَقَالَ: الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالذُّرَةِ، فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذَلِكَ فَهِيَ الْخَمْرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مختار بن نوفل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " مزفت " سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا لک لگایا ہوا برتن، میں نے پوچھا کہ شیشی اور بوتل کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ لوگ تو انہیں اچھا نہیں سمجھتے؟ انہوں نے فرمایا کہ پھر جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرلو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو، کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ نے بجا فرمایا کہ نشہ حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد ایک دو گھونٹ پی لینے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا نشہ آور چیز خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے اور فرمایا کہ شراب انگور سے بھی بنتی ہے، کھجور، شہد، گندم، جو اور مکئی سے بھی بنتی ہے، ان میں سے جس چیز سے بھی بنے، وہ بہر حال شراب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12099]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5587 ، م: 1992
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5587 ، م: 1992
حدیث نمبر: 12100 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ، أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں پانی پیش کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے استنجاء فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12100]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 217 ، م: 271
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 217 ، م: 271