سُفْيَانُ ، ابْنِ جُدْعَانَ ، ثَابِتٌ ، لِأَنَسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ: قَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ : يَا أَنَسُ،" مَسِسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَرِنِي أُقَبِّلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن جدعان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ثابت رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے انس! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ سے چھوا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو ثابت رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے وہ ہاتھ دکھائیے کہ میں اسے بوسہ دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12094]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: حسن لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان