سُفْيَانُ ، قَاسِمٌ الرَّحَّالُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ قَاسِمٌ الرَّحَّالُ أَنَسًا ، يَقُولُ: دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ خَرِبًا لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ يَقْضِي فِيهَا حَاجَةً، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مَذْعُورًا أَوْ فَزِعًا، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَسَأَلْتُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ أَهْلِ الْقُبُورِ مَا أَسْمَعَنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی ویرانے میں تشریف لے گئے، وہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جایا کرتے تھے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھبرائے ہوئے ہمارے پاس آئے اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح