بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 104 از 109
حدیث نمبر: 14002 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا"، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حج اور عمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں فرما رہے تھے " لبیک بحجۃ و عمرۃ معاً '' [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14002]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1251
الحكم: إسناده صحيح، م: 1251
حدیث نمبر: 14003 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا مِنَّا، فَحَجَمَهُ، فَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ صَاعًا أَوْ صَاعَيْنِ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم میں سے ایک لڑکے کو بلایا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک صاع گندم دی اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2281، م: 1577
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2281، م: 1577
حدیث نمبر: 14004 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ: رِعْلٍ، وَبَنِي لِحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَذَكْوَانَ، فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ- بإثر الحديث: 4090، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ- بإثر الحديث: 4090، م: 677
حدیث نمبر: 14005 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، حَنْظَلَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور (رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر) بددعاء کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14005]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1001، م: 677، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلة السدوسي
الحكم: حديث صحيح، خ: 1001، م: 677، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلة السدوسي
حدیث نمبر: 14006 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِسْقَاءِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی دعاء میں ہاتھ نہ اٹھاتے تھے، سوائے استسقاء کے موقع پر کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1031، م: 896
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1031، م: 896
حدیث نمبر: 14007 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَإِنَّ كَفَّارَتَهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب یاد آئے، اسے پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 597، م: 684
حدیث نمبر: 14008 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ:" إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُرَى أَنَّهَا الْإِقَامَةُ، مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں مؤذن جب اذان دے چکتا تو یوں محسوس ہوتا کہ اس نے اقامت کہی ہے، اس لئے کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوجاتی تھی (کہ وہ اذان محسوس ہوتی ہی نہیں تھی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14008]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 837، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
الحكم: حديث صحيح، م: 837، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 14009 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَمْزَةَ الضَّبِّيَّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمْزَةَ الضَّبِّيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" مَا صَلَّيْتُ يَعْنِي وَرَاءَ رَجُلٍ أَوْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ ہلکی اور مکمل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 14010 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" الْمَرْأَةُ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ: إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فِي مَنَامِهَا، فَلْتَغْتَسِلْ"، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَحْيَتْ: أَوَيَكُونُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ، مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ؟! وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ، فَمِنْ أَيِّهِمَا سَبَقَ أَوْ: عَلَا يَكُونُ الشَّبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح " خواب دیکھے " جیسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسا " خواب دیکھے " اور اسے انزال ہوجائے تو اسے غسل کرنا چاہئے، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 310
الحكم: إسناده صحيح، م: 310
حدیث نمبر: 14011 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: انْطَلَقَ حَارِثَةُ ابْنُ عَمَّتِي يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا نَظَّارًا، مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ، قَالَ: فَأَصَابَهُ سَهْمٌ، فَقَتَلَهُ، قَالَ: فَجَاءَتْ أُمُّهُ عَمَّتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنِي حَارِثَةُ، إِنْ يَكُنْ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرْ وَأَحْتَسِبْ، وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ:" يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ " جو کہ نوعمر لڑکے تھے " سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6567
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6567
حدیث نمبر: 14012 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، الْحَسَنُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ، فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ، غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ"، قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ، فَإِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَهْطِ أَبِي هُرَيْرَةَ، يُقَالُ لَهُ: سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا الْغُلَامُ إِنْ طَالَ بِهِ عُمُرٌ، لَمْ يَبْلُغْ بِهِ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ"، قَالَ الْحَسَنُ: وَأَخْبَرَنِي أَنَسٌ: أَنَّ الْغُلَامَ كَانَ يَوْمَئِذٍ مِنْ أَقْرَانِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں ان کے گھر میں تھا، کہ ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو اور تمہیں وہی ملے گا جو تم نے کمایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا قیامت کے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے؟ چنانچہ اس آدمی کو بلا کر لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کمرے میں نظر دوڑائی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ دوس کا ایک لڑکا نظر آیا جس کا نام سعد بن مالک تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس لڑکے کی عمر طویل ہوئی تو ہوسکتا ہے کہ یہ بڑھاپے کو نہ پہنچ سکے اور قیامت قائم ہوجائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لڑکا میرا ہم عمر تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14012]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك ابن فضالة، وقد صرح بالتحديث هو والحسن البصري. قوله: غلام من دوس، يقال له: سعد بن مالك، وبرقم 12993: أنه غلام للمغيرة بن شعبة، وبرقم 13386: أنه غلام من الأنصار اسمه محمد، وفي مسلم 2953: أنه من أزد شنوءة، ودوس من أزد شنوءة، واستظهر الحافظ فى الاصابة 91/3 تودد القصة، ويؤيده حديث عائشة عند البخاري: 6511، و مسلم: 2952
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك ابن فضالة، وقد صرح بالتحديث هو والحسن البصري. قوله: غلام من دوس، يقال له: سعد بن مالك، وبرقم 12993: أنه غلام للمغيرة بن شعبة، وبرقم 13386: أنه غلام من الأنصار
حدیث نمبر: 14013 مسند احمد
عَفَّانُ ، إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ، قَالَ: يَقُولُ رَبُّكُمْ:" إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي شِبْرًا، تَلَقَّيْتُهُ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَلَقَّانِي ذِرَاعًا، تَلَقَّيْتُهُ بَاعًا، وَإِذَا تَلَقَّانِي يَمْشِي، تَلَقَّيْتُهُ أُهَرْوِلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14013]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7536
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7536
حدیث نمبر: 14014 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ"، وَأَوْمَأَ عَفَّانُ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6504، م: 2951
حدیث نمبر: 14015 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ حَارِثَةُ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَتْ أُمُّ حَارِثَةَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنْ كَانَ ابْنِي أَصَابَ الْجَنَّةَ، وَإِلَّا أَجْهَدْتُ عَلَيْهِ الْبُكَاءِ! قَالَ:" يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ فِي جَنَّةٍ، وَإِنَّ حَارِثَةَ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی، ورنہ پھر میں کثرت سے آہ و بکا کروں گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سے جنت الفردوس میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6567
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6567
حدیث نمبر: 14016 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَاللَّفْظِ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" لَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14016]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6076، م: 2559
حدیث نمبر: 14017 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" تَرَاصُّوا صُفُوفَكُمْ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا، وَحَاذُوا بَيْنَ الْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ، كَأَنَّهُ الْحَذَفُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں جوڑ کر قریب قریب ہو کر بنایا کرو، کندھے ملا لیا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی بھیڑوں کی طرح شیاطین صفوں کے بیچ میں گھس جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14018 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً، يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا، وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ، قَالَ: وَأَمَّا الْكَافِرُ، فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ، لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14018]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2808
الحكم: إسناده صحيح، م: 2808
حدیث نمبر: 14019 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ بِبَرَاءَةٌ مَعَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ، قَالَ: فَبَعَثَ بِهَا عَلِيًّا، قَالَ: لَا يُبَلِّغُهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سورت برأت کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا، لیکن جب وہ ذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کہلوایا کہ عرب کے دستور کے مطابق یہ پیغام صرف میں یا میرے اہل خانہ کا کوئی فرد ہی پہنچا سکتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وہ پیغام دے کر بھیجا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14019]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لنكارة متنه، سماك بن حرب ليس بذاك القوي
الحكم: إسناده ضعيف لنكارة متنه، سماك بن حرب ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 14020 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14021 مسند احمد
عَفَّانُ ، نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ الْحَدَّانِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ الْحَدَّانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَبُّكُمْ:" مَنْ أَذْهَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ، ثُمَّ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ، كَانَ ثَوَابُهُ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی شخص کی بینائی واپس لے لوں اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرے تو اس کا عوض جنت ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14021]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 5653
الحكم: إسناده قوي، خ: 5653