بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 43 از 109
حدیث نمبر: 12781 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، أَوْ قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بْنُ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَائِطِي الَّذِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، وَلَوْ اسْتَطَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ قَرَابَتِكَ" أَوْ قَالَ:" فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ".
حدیث نمبر: 12782 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، هِلَالَ بْنَ أَبِي دَاوُدَ الْحَبَطِيَّ أَبَا هِشَامٍ ، هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ أَبِي دَاوُدَ الْحَبَطِيَّ أَبَا هِشَامٍ ، قَالَ: أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ حَدَّثَنِي، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ، وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا، فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لِلصَّحِيحِ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ، فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ؟ قَالَ:" تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروان بن ابی داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! جگہ دور کی ہے لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ کی عیادت کو آیا کریں، اس پر انہوں نے اپنا سر اٹھا کر کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، وہ رحمت الہٰیہ کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے اور جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ تو اس تندرست کا آدمی کا حکم ہے جو مریض کی عیادت کرتا ہے، مریض کا کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12782]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة هارون بن أبي داود الحبطي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة هارون بن أبي داود الحبطي
حدیث نمبر: 12783 مسند احمد
الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يَكْرَهَ الْعَبْدُ أَنْ يَرْجِعَ عَنِ الْإِسْلَامِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ، وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدُ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12783]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 16، م: 43
الحكم: إسناده صحيح، خ: 16، م: 43
حدیث نمبر: 12784 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ، فَانْطَلَقَتْ بِي أُمّي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا ابْنِي اسْتَخْدِمْهُ، فَخَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ وَأَتَانِي ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ أَوْ قَالَ مَعَ الصِّبْيَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، ثمَّ دَعَانِي، فَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ:" لَا تُخْبِرْ أَحَدًا"، فاحْتَبَسْتُ عَلَى أُمِّي، فَلَمَّا أَتَيْتُهَا قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، قَالَتْ: وَمَا هِيَ؟ قُلْتُ: إِنَّهُ قَالَ:" لَا تُخْبِرَنَّ بِهَا أَحَدًا" قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، فَاكْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میری عمر نو سال تھی، ام سلیم رضی اللہ عنہ مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے آپ اسے اپنی خدمت کے لئے قبول فرمالیجئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت نو سال تک کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا، نہ ہی یہ فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا؟ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا جب میں واپس آگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کسی کو نہ بتانا، ادھر مجھے گھر پہنچنے میں دیر ہوگئی چنانچہ جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی کو بتانے سے منع کیا ہے، انہوں نے کہا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12784]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2482، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل- وهو ابن إسماعيل - سيئ الحفظ، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2482، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل- وهو ابن إسماعيل - سيئ الحفظ، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12785 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَيْبَةَ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ، فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12785]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5696، م: 1577، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل
الحكم: حديث صحيح، خ: 5696، م: 1577، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل
حدیث نمبر: 12786 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" سَلُونِي" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ" لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ يَا بُنَيَّ لَقَدْ قُمْتَ بِأُمِّكَ مَقَامًا عَظِيمًا، قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُبَرِّئَ صَدْرِي مِمَّا كَانَ يُقَالُ، وَقَدْ كَانَ يُقَالُ فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے معلق تم مجھ سے سوال کرسکتے ہو، ایک آدمی نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہت تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12786]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12044
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12044
حدیث نمبر: 12787 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، فَكَانَ إِذَا جِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا قَرْعٌ، جُعِلَتْ الْقَرْعُ مِمَّا يَلِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، جب بھی کدو کا سالن آتا تو میں اسے الگ کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کرتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12787]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2041، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12728
الحكم: حديث صحيح، م: 2041، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12728
حدیث نمبر: 12788 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا، فَجَاءَه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ وَإِنَّهُ يُعَرِّضُونَ بِالنِّفَاقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِهَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ النَّارُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنا لوں، چنانچہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کرنے لگے اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اس پر حرام کردی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12788]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12384
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12384
حدیث نمبر: 12789 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ وَفْدًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا، فَقَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا، فَقَالَ:" أَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ" فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ:" لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَهَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی کو بھیج دیں جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ اس امت کے امین کو بھیجوں گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12789]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2419، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2419، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، وقد توبع
حدیث نمبر: 12790 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ، فَقَالَ: أَيْ قَوْمِي، أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ، أَوْ قَالَ: الْفَقْرَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَاهُ ثَابِتٌ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصِيبَ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَمَا يُمْسِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَكْبَرَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے صدقہ کی دو بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12790]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2312، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 2312، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع
حدیث نمبر: 12791 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، وَحَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ ، حَسَنٌ ، ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، وَحَسَنٌ الْأَشْيَبُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ حَسَنٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَرَّ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ أَصْوَاتَ قَوْمٍ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَحَاصَتْ الْبَغْلَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہو رہا تھا، چنانچہ خچر بدک گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12792 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ ، مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ بن زيد ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَضَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ، وَيُنَاوِلُهُ نَعْلَيْهِ، فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَا فُلَانُ، قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، فَسَكَتَ أَبُوهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ الْغُلَامُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَهُ بِي مِنَ النَّارِ"، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بن زيد ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے وضو کا پانی رکھتا تھا اور جوتے پکڑاتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، وہ خاموش رہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بات دوبارہ دہرائی اور اس نے دوبارہ اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12792]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1356 ، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1356 ، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل - وإن كان سيئ الحفظ - متابع
حدیث نمبر: 12793 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (۱) : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ، مِثْلَهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12793]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1356، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، خ: 1356، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12794 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: حَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَقَامَ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ إِلَى مَنَازِلِهِمْ يَتَوَضَّئُونَ، وَبَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَ أَصَابِعَ يَدِهِ الْيُمْنَى فِي الْمِخْضَبِ، فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ، وَيَقُولُ:" تَوَضَّئُوا، حَيَّ عَلَى الْوُضُوءِ" حَتَّى تَوَضَّئُوا جَمِيعًا، وَبَقِيَ فِيهِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت آیا تو ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا اور وہ ستر اسی کے درمیان تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو اور پھر بھی اس میں اتنا ہی پانی بچ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12794]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12795 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ لِي:" أَمَعَكَ تَمْرٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، فَتَنَاوَلَ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ، فَلَاكَهُنَّ فِي حَنَكِهِ فَفَغَر الصَّبِيُّ فَاهُ، فَأَوْجَرَهُ الصبيَّ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبَتْ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ" وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کا بیٹا عبداللہ پیدا ہوا تو میں اس بچے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12795]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2144
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5470، م: 2144
حدیث نمبر: 12796 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا، رَقَّتْ قُلُوبُنَا، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ، عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ، وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا، لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں، آپ ہم سے احادیث بیان فرماتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور جب ہم آپ کی مجلس سے نکل جاتے ہیں تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہوجاتے ہیں اور اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ہمیشہ تمہاری یہ کیفیت رہنے لگے تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12796]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 12797 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ" يَعْنِي الْأَنْصَارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں اور بچے ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے کھڑے تین مرتبہ فرمایا اللہ کی قسم! تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12797]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3785، م: 2508
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3785، م: 2508
حدیث نمبر: 12798 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ قَالَ: فسَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ، فَقِيلَ: هُمَا رَجُلَانِ عَطَسَا، فَشَمَّتَّ أَوْ قَالَ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ! فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ" قَالَ سُلَيْمَانُ: أُرَاهُ نَحْوًا مِنْ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک کو اس کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو کیوں نہ دیا؟ فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا اور دوسرے نے نہیں کہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12798]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6221، م: 2991
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6221، م: 2991
حدیث نمبر: 12799 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأَتى عليهنَّ النبيُّ صلى الله عليه و آله وسلم وَهُوَ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ، فَقَالَ لَهُ:" يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سفر میں تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک حدی خوان تھا " جس کا نام انجثہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12799]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6209، م: 2323
حدیث نمبر: 12800 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، حدثنا به هَكَذَا مَرَّتَيْنِ، وحدَّثَنا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12800]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 108، م: في المقدمة: 2
الحكم: إسناده صحيح، خ: 108، م: في المقدمة: 2