مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا، رَقَّتْ قُلُوبُنَا، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ، عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ، وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا، لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں، آپ ہم سے احادیث بیان فرماتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور جب ہم آپ کی مجلس سے نکل جاتے ہیں تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہوجاتے ہیں اور اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر ہمیشہ تمہاری یہ کیفیت رہنے لگے تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12796]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، لكنه قد توبع