مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" سَلُونِي" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ" لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ يَا بُنَيَّ لَقَدْ قُمْتَ بِأُمِّكَ مَقَامًا عَظِيمًا، قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُبَرِّئَ صَدْرِي مِمَّا كَانَ يُقَالُ، وَقَدْ كَانَ يُقَالُ فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے معلق تم مجھ سے سوال کرسکتے ہو، ایک آدمی نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہت تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12786]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12044
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وانظر: 12044