بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 72 از 109
حدیث نمبر: 13362 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ:" مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ، فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں ان کے گھر میں تھا، کہ ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو اور تمہیں وہی ملے گا جو تم نے کمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13362]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، مبارك بن فضالة قد توبع، وبرقم: 14012، صرح بسماعه من الحسن، والحسن من أنس.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، مبارك بن فضالة قد توبع، وبرقم: 14012، صرح بسماعه من الحسن، والحسن من أنس.
حدیث نمبر: 13363 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ، قَالَ: ابْنُوا لِي مِنْبَرًا"، أَرَادَ أَنْ يُسْمِعَهُمْ، فَبَنَوْا لَهُ عَتَبَتَيْنِ، فَتَحَوَّلَ مِنَ الْخَشَبَةِ إِلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّهُ سَمِعَ الْخَشَبَةَ تَحِنُّ حَنِينَ الْوَالِهِ، قَالَ: فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ، فَمَشَى إِلَيْهَا فَاحْتَضَنَهَا، فَسَكَنَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو لکڑی کے ایک ستون کے ساتھ اپنی پشت مبارک کو سہارا دیتے تھے، لوگوں کی تعداد جب بڑھ گئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لئے منبر بنایا، مقصد یہ تھا کہ سب تک آواز پہنچ جائے، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے دو سیڑھیوں کا منبر بنایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس ستون سے منبر پر منتقل ہوگئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے کانوں سے اس تنے کے رونے کی ایسی آواز سنی جیسے گمشدہ بچہ بلک بلک کر روتا ہے اور وہ مسلسل روتا ہی رہا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور اس کی طرف چل کر گئے، اسے سینے سے لگایا تب جا کر وہ خاموش ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 13364 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبٌ قَطُّ، فَرَدَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے رد نہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13364]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2582، وهذا إسناد حسن، مبارك بن فضالة- وإن كان مدلسا- قد صرح بالتحديث فيما سيأتي برقم: 13617.
الحكم: حديث صحيح، خ: 2582، وهذا إسناد حسن، مبارك بن فضالة- وإن كان مدلسا- قد صرح بالتحديث فيما سيأتي برقم: 13617.
حدیث نمبر: 13365 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کثرت سے یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13365]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد.
حدیث نمبر: 13366 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ فِي بَيْتِهَا، قَالَ: فَأُتِيَتْ يَوْمًا، فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ عَلَى فِرَاشِكِ، قَالَتْ: فَجِئْتُ وَذَاكَ فِي الصَّيْفِ، فَعَرِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدَمٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَجَعَلْتُ أُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ، وَأَعْصِرُهُ فِي قَارُورَةٍ، فَفَزِعَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا، قَالَ: أَصَبْتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سوجاتے تھے، وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے انہیں جا کر بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سو رہے ہیں، چنانچہ وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں اور وہ پسینہ بستر پر بچھے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر گر رہا ہے، انہوں نے اپنا دوپٹہ کھولا اور اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13366]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2331.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2331.
حدیث نمبر: 13367 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ تَغَيَّرَ مِنَ الْقِدَمِ، وَنَضَحَهُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَجَدَ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک پرانی چٹائی پر " جس کا رنگ بھی پرانا ہونے کی وجہ سے بدل چکا تھا " ہمیں نماز پڑھائی، میں نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 13368 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ :" أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ فِيهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ، لَا تُزْرِمُوهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے خبردار کرنے کے لئے روکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو، پھر اس کے فارغ ہونے کے بعد پانی منگوا کر اس پیشاب پر بہا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6025، م: 284
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6025، م: 284
حدیث نمبر: 13369 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، قَالَ:" فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَقَدْ نَسِيَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ قَعَدَ، حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَقَدْ نَسِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے میں تمہیں اس طرح نماز پڑھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جس طرح کرتے تھے میں تمہیں اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھول تو نہیں گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 821، م: 472.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 821، م: 472.
حدیث نمبر: 13370 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو ان کے اوپر " خلوق " نامی خوشبو کے اثرات دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ مبارک کرے، پھر ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5155، م: 1427.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5155، م: 1427.
حدیث نمبر: 13371 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ؟" قَالَ: لَا، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ". قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الإسلام فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، قَالَ: فَأَنَا أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ لِحُبِّي إِيَّاهُمْ، وَإِنْ كُنْتُ لَا أَعْمَلُ بِعَمَلِهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد میں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3688، م:2639
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3688، م:2639
حدیث نمبر: 13372 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ:" خَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: لَمْ يَبْلُغْ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَخْضِبُ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ، لَفَعَلْتُ، وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَكَانَ عُمَرُ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خضاب لگاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، اگر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈاڑھی میں سفید بالوں کو گننا چاہوں تو گن سکتا ہوں، البتہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2341.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2341.
حدیث نمبر: 13373 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي: أُفٍّ، قَطُّ، وَلَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَ كَذَا، وَهَلَّا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2768، م: 2309.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2768، م: 2309.
حدیث نمبر: 13374 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" مَا مَسِسْتُ بِيَدَيَّ دِيبَاجًا، وَلَا حَرِيرًا، أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ رَائِحَةً كَانَتْ أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13374]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3561، م: 2330.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3561، م: 2330.
حدیث نمبر: 13375 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ :" أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ، فَدَعَاهُ إِلَى الإسلام، فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13375]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1356.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1356.
حدیث نمبر: 13376 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَنَظَرْتُ، فَسَمِعْتُ مُنَادِيًا يُنَادِي:" أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا، قَالَ: فَجِئْتُ فَأَهْرَقْتُهَا، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ قُتِلَ سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ! قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93" إِلَى آخِرِ الْآيَةَ، قَالَ: وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کے کچھ دوستوں کو پلا رہا تھا، ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی، انہوں نے یہ سن کر مجھ سے کہا کہ باہر نکل کر دیکھو، میں نے باہر نکل کر دیکھا تو ایک منادی کی یہ آواز سنائی دی کہ لوگو! شراب حرام ہوگئی، میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بتادیا، وہ کہنے لگے کہ جا کر تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، چنانچہ میں نے جا کر اسے بہا دیا، اس موقع پر بعض لوگ کہنے لگے کہ سہیل بن بیضاء مارے گئے کیونکہ ان کے پیٹ میں شراب تھی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ پہلے کھاپی چکے۔۔۔۔۔۔ " اس موقع پر صرف کچی اور پکی کجھور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2464، م: 1980.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2464، م: 1980.
حدیث نمبر: 13377 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، وَأيُوب ، أَبِي قلابَة
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ وَأيُوب ، عَنْ أَبِي قلابَة ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ أَسْوَدُ، يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، يَحْدُو، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ"، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ: يَعْنِي النِّسَاءَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انجشہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13377]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 6161، م: 2323.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 6161، م: 2323.
حدیث نمبر: 13378 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَأَوْلَمَ بِشَاةٍ، أَوْ ذَبَحَ شَاةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی زوجہ محترمہ کا ایسا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے موقع پر کیا تھا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ولیمے کے لئے بکری ذبح کروائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5168، 5171، م: 1428.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5168، 5171، م: 1428.
حدیث نمبر: 13379 مسند احمد
يُونُسُ ، وَمُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ، ذَهَبْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹا! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13379]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2151، وهذا إسناد حسن، مؤمل- وهو ابن إسماعيل - وإن كان سيئ الحفظ، مقرون هنا بيونس بن محمد وهو ثقة من رجال الشيخين.
الحكم: حديث صحيح، م: 2151، وهذا إسناد حسن، مؤمل- وهو ابن إسماعيل - وإن كان سيئ الحفظ، مقرون هنا بيونس بن محمد وهو ثقة من رجال الشيخين.
حدیث نمبر: 13380 مسند احمد
يُونُسُ ، حَبِيبُ بْنُ حَجَرٍ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ حَجَرٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا إِلَى أَهْلِي، فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ، فَأَعْجَبَنِي لَعِبُهُمْ، فَقُمْتُ عَلَى الْغِلْمَانِ، فَانْتَهَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَى الْغِلْمَانِ، فَسَلَّمَ عَلَى الْغِلْمَانِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي بَعْدَ السَّاعَةِ الَّتِي كُنْتُ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِيهَا، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: مَا حَبَسَكَ الْيَوْمَ يَا بُنَيَّ؟ فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَقَالَتْ: أَيُّ حَاجَةٍ يَا بُنَيَّ؟ فَقُلْتُ: يَا أُمَّاهُ، إِنَّهَا سِرٌّ. فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ،" احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ"، قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَتَحْفَظُ تِلْكَ الْحَاجَةَ الْيَوْمَ أَوْ تَذْكُرُهَا؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَذْكُرُهَا، وَلَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، لَحَدَّثْتُكَ بِهَا يَا ثَابِتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت سے جب فارغ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیلولہ کریں گے، چنانچہ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا، میں ابھی ان کا کھیل دیکھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگئے اور بچوں کو " جو کھیل رہے تھے " سلام کیا اور مجھے بلا کر اپنے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا کام تھا؟ میں نے کہا کہ یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، ثابت! اگر وہ راز میں کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13380]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2482.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2482.
حدیث نمبر: 13381 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ، كَأنَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤَ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ، وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ رَائِحَةَ مِسْكٍ وَلَا عَنْبَرٍ، أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ حَسَنٌ: مِسْكَةٍ وَلَا عَنْبَرَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا، پسینہ موتیوں کی طرح تھا، جب وہ چلتے تو پوری قوت سے چلتے تھے، میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13381]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1973، م: 2330.