يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ؟" قَالَ: لَا، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ". قَالَ أَنَسٌ: فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الإسلام فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، قَالَ: فَأَنَا أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ لِحُبِّي إِيَّاهُمْ، وَإِنْ كُنْتُ لَا أَعْمَلُ بِعَمَلِهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد میں نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3688، م:2639
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3688، م:2639