هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ، قَالَ: ابْنُوا لِي مِنْبَرًا"، أَرَادَ أَنْ يُسْمِعَهُمْ، فَبَنَوْا لَهُ عَتَبَتَيْنِ، فَتَحَوَّلَ مِنَ الْخَشَبَةِ إِلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّهُ سَمِعَ الْخَشَبَةَ تَحِنُّ حَنِينَ الْوَالِهِ، قَالَ: فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ، فَمَشَى إِلَيْهَا فَاحْتَضَنَهَا، فَسَكَنَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو لکڑی کے ایک ستون کے ساتھ اپنی پشت مبارک کو سہارا دیتے تھے، لوگوں کی تعداد جب بڑھ گئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لئے منبر بنایا، مقصد یہ تھا کہ سب تک آواز پہنچ جائے، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے دو سیڑھیوں کا منبر بنایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس ستون سے منبر پر منتقل ہوگئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے کانوں سے اس تنے کے رونے کی ایسی آواز سنی جیسے گمشدہ بچہ بلک بلک کر روتا ہے اور وہ مسلسل روتا ہی رہا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور اس کی طرف چل کر گئے، اسے سینے سے لگایا تب جا کر وہ خاموش ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.