بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 65 از 109
حدیث نمبر: 13222 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، بِسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ ، أَشْعَثَ الْحَدانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ الْحَدانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے شفاعت کے مستحق کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12376
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12376
حدیث نمبر: 13223 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَمَّارٌ أَبُو هَاشِمٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ أَبُو هَاشِمٍ صَاحِبُ الزَّعْفَرَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ نَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ، فَقَالَ:" هَذَا أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ أَبُوكِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ پہلا کھانا ہے جو تمہارا باپ تین دن بعد کھا رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13223]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، فإن عمارة أبا هاشم لم يسمع من أنس.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، فإن عمارة أبا هاشم لم يسمع من أنس.
حدیث نمبر: 13224 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، الْحَسَنُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: لَا، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟" قَالَ: وَثَمَّ غُلَامٌ، فَقَالَ:" إِنْ يَعِشْ هَذَا فَلَنْ يَبْلُغَ الْهَرَمَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہو، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی دوران حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام " جو میرا ہم عمر تھا " وہاں سے گذرا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس کی زندگی ہوئی تو یہ بڑھاپے کو نہیں پہنچے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13224]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمران القطان، وهو متابع، والحسن البصري قد صرح بالتحديث كما برقم:14012
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمران القطان، وهو متابع، والحسن البصري قد صرح بالتحديث كما برقم:14012
حدیث نمبر: 13225 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ بَصْرِيٌّ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَمْرُو بْنُ زُنَيْبٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ بَصْرِيٌّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ زُنَيْبٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُعَاذًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ لَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِكَ، وَلَا يَأْخُذُونَ بِأَمْرِكَ، فَمَا تَأْمُرُ فِي أَمْرِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعْ اللَّهَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر ہمارے حکمران ایسے لوگ بن جائیں جو آپ کی سنت پر عمل نہ کریں اور آپ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کی اطاعت نہیں کرتا اس کی اطاعت نہ کی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13225]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسین، عمرو بن زینب روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی الثقات
الحكم: إسناده محتمل للتحسین، عمرو بن زینب روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی الثقات
حدیث نمبر: 13226 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، مُوسَى بْنَ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْأَنْصَارَ اشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ السَّوَانِي، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْعُوَ لَهُمْ أَوْ يَحْفِرَ لَهُمْ نَهْرًا، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا يَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُعْطُوهُ" فَأُخْبِرَتْ الْأَنْصَارُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا سَمِعُوا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں پانی کا معاملہ بہت پیچیدہ ہوگیا، وہ لوگ اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ انہیں ایک جاری نہر میں سے پانی لینے کی اجازت دی جائے، وہ اس کا کرایہ ادا کردیں گے، یا ان کے لئے دعا کردیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انصار کو خوش آمدید! بخدا! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13226]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: -الدعا بالمغفرۃ فقط- 2507، عبداللہ ابن ابی یزید المازنی روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی الثقات
الحكم: حديث صحيح، م: -الدعا بالمغفرۃ فقط- 2507، عبداللہ ابن ابی یزید المازنی روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی الثقات
حدیث نمبر: 13227 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَقَدْ أَضَلَّهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ"، وَحَدَّثَ بِذَلِكَ شَهْرٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے توبہ کرنے پر اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا اونٹ کسی جنگل میں گم ہوجائے اور کچھ عرصے بعد دوبارہ مل جائے۔ یہ حدیث شہر بن حوشب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی بیان کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13227]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6309، م: 2747، وهذا إسناد حسن من أجل عمر بن إبراهيم العبدي، وهو متابع، وحديث شهر- وهو ابن حوشب- عن أبي هريرة الذي أشار إليه المؤلف لم يقع لنا من طريقه، وشهر ضعیف، وانظر الحديث برقم:8192
الحكم: حديث صحيح، خ: 6309، م: 2747، وهذا إسناد حسن من أجل عمر بن إبراهيم العبدي، وهو متابع، وحديث شهر- وهو ابن حوشب- عن أبي هريرة الذي أشار إليه المؤلف لم يقع لنا من طريقه، وشهر ضعیف، وانظر الحديث برقم:8192
حدیث نمبر: 13228 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَمَا يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ، فَيُكَلِّمُهُ ثُمَّ يَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے بات کرلیتے تھے، پھر بڑھ کر مصلیٰ پر چلے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13229 مسند احمد
وَهْبٌ ، أَبِي ، حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ مَوْكِبِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام سَاطِعًا فِي سِكَّةِ بَنِي غَنْمٍ، حِينَ سَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی سواری کی ٹاپ سے اڑنے والا وہ گردو غبار ابھی تک میری نگاہوں کے سامنے ہے جو بنو غنیم کی گلیوں میں بنو قریظہ کی طرف جاتے ہوئے ان کی ایڑ لگانے سے پیدا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:3214
الحكم: إسناده صحيح، خ:3214
حدیث نمبر: 13230 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَنْبَرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَنْبَرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ سمعه من رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أَحَدٌ بَعْدِي، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَتَقِلَّ الرِّجَالُ، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13230]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5231، م: 2671
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5231، م: 2671
حدیث نمبر: 13231 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پانی پیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2024
الحكم: إسناده صحيح، م: 2024
حدیث نمبر: 13232 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ بَاسِطًا ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 822، م: 493.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 822، م: 493.
حدیث نمبر: 13233 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ ، هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ"، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ" وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13233]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2823، م: 2706.
حدیث نمبر: 13234 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 13235 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى العَوَالِي فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ نماز کے بعد کوئی جانے والا عوالی جانا چاہتا تو وہ جا کر واپس آجاتا پھر بھی سورج بلند ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7329، م: 621
حدیث نمبر: 13236 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاسٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ قُعُودًا مِنْ مَرَضٍ، فَقَالَ:" إِنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13237 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمَيْدٌ ، مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا، مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ، وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ، وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ" حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے؟ فرمایا ہاں! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2839
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2839
حدیث نمبر: 13238 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسًا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ، عَنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا رَأَيْتُ شَعَرًا أَشَبَهَ بِشَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شعر قَتَادَةَ"، فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بالوں کے ساتھ قتادہ کے بالوں سے زیادہ مشابہہ کسی کے بال نہیں دیکھے، اس دن قتادہ رحمہ اللہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13239 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ مَعَ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ، انْظُرِي هَلْ حَانَتْ؟ قَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ، قال: فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ الْآنَ مَعَ الْإِمَامِ! قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ خارجہ بن زید رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، انہوں نے اپنی باندی سے فرمایا کہ دیکھو! نماز کا وقت ہوگیا؟ اس نے کہا جی ہاں! ہم نے ان سے کہا کہ ہم تو ابھی امام کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر آرہے ہیں؟ (اور آپ عصر کی نماز پڑھ رہے ہیں)؟ لیکن وہ کھڑے ہوگئے اور نماز عصر پڑھ لی، اس کے بعد فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13239]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، خ: 549، م: 623، وهذا إسناد ضعیف، عبدالله والد خارجة معروف النسب مجھول الحال
الحكم: حدیث صحيح، خ: 549، م: 623، وهذا إسناد ضعیف، عبدالله والد خارجة معروف النسب مجھول الحال
حدیث نمبر: 13240 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرُونَ مَا قَالَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ:" رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ" فَرَدُّوهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْتَ كَذَا وَكَذَا؟" قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا: عَلَيْكَ" أَيْ عَلَيْكَ مَا قُلْتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا؟ اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، انظر: 12427
الحكم: إسناده صحيح، انظر: 12427
حدیث نمبر: 13241 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ:" يَا أُمَّ فُلَانٍ، اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ، أَجْلِسْ إِلَيْكِ" فَفَعَلَتْ، فَجَلَسَ إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 11941
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 11941