عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، مُوسَى بْنَ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْأَنْصَارَ اشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ السَّوَانِي، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْعُوَ لَهُمْ أَوْ يَحْفِرَ لَهُمْ نَهْرًا، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا يَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا إِلَّا أُعْطُوهُ" فَأُخْبِرَتْ الْأَنْصَارُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا سَمِعُوا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: ادْعُ اللَّهَ لَنَا بِالْمَغْفِرَةِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں پانی کا معاملہ بہت پیچیدہ ہوگیا، وہ لوگ اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہ درخواست لے کر آئے کہ انہیں ایک جاری نہر میں سے پانی لینے کی اجازت دی جائے، وہ اس کا کرایہ ادا کردیں گے، یا ان کے لئے دعا کردیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انصار کو خوش آمدید! بخدا! آج تم مجھ سے جو مانگو گے میں تمہیں دوں گا، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! انصار کی انصار کے بچوں کی اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13226]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: -الدعا بالمغفرۃ فقط- 2507، عبداللہ ابن ابی یزید المازنی روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی الثقات
الحكم: حديث صحيح، م: -الدعا بالمغفرۃ فقط- 2507، عبداللہ ابن ابی یزید المازنی روی عنہ اثنان، وذکرہ ابن حبان فی الثقات