عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ مَعَ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ، انْظُرِي هَلْ حَانَتْ؟ قَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ، قال: فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ الْآنَ مَعَ الْإِمَامِ! قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ خارجہ بن زید رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، انہوں نے اپنی باندی سے فرمایا کہ دیکھو! نماز کا وقت ہوگیا؟ اس نے کہا جی ہاں! ہم نے ان سے کہا کہ ہم تو ابھی امام کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر آرہے ہیں؟ (اور آپ عصر کی نماز پڑھ رہے ہیں)؟ لیکن وہ کھڑے ہوگئے اور نماز عصر پڑھ لی، اس کے بعد فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13239]
حکم دارالسلام
حدیث صحيح، خ: 549، م: 623، وهذا إسناد ضعیف، عبدالله والد خارجة معروف النسب مجھول الحال
الحكم: حدیث صحيح، خ: 549، م: 623، وهذا إسناد ضعیف، عبدالله والد خارجة معروف النسب مجھول الحال