بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 97 از 109
حدیث نمبر: 13862 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: وَأَبُو طَلْحَةَ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَإِنِّي لَأَرَى قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمْهَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ أَهْلُ الزَّرْعِ إِلَى زُرُوعِهِمْ، وَأَهْلُ الْمَوَاشِي إِلَى مَوَاشِيهِمْ، قَالَ:" كَبَّرَ ثُمَّ أَغَارَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1365
الحكم: إسناده صحيح، م: 1365
حدیث نمبر: 13863 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيْ أَخِي، أَنَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَالًا، فَانْظُرْ شَطْرَ مَالِي فَخُذْهُ، وَتَحْتِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَعْجَبُ إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ، فَذَهَبَ، فَاشْتَرَى وَبَاعَ وَرَبِحَ، فَجَاءَ بِشَيْءٍ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ، ثُمَّ لَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ، فَجَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْيَمْ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: مَا أَصْدَقْتَهَا؟ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:" أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَلَوْ رَفَعْتُ حَجَرًا، لَرَجَوْتُ أَنْ أُصِيبَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، نیز میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کرلیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتادیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5148، م: 1427
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5148، م: 1427
حدیث نمبر: 13864 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ" تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: فَجَازَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13864]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13865 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتًا ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَشْجَعَ النَّاسِ، وَأَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ"، قَالَ: فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً، قَالَ: فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ:" لَمْ تُرَاعُوا"، قَالَ: وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ، فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، فَجَعَلَ يَقُولُ لِلنَّاسِ:" لَمْ تُرَاعُوا"، قَالَ: وَقَالَ: إِنَّا وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ: إِنَّهُ لَبَحْرٌ، يَعْنِي الْفَرَسَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بےزین گھوڑے پر سوار ہیں، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13865]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2820، م: 2307
حدیث نمبر: 13866 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْنِ لَهُ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِهِ نَفْسَهُ، فَلْيَرْكَبْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1865، م: 1642
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1865، م: 1642
حدیث نمبر: 13867 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّاسَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْمَالُ، أَقْحَطْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلَكَ الْمَالُ، فَاسْتَسْقِ لَنَا،" فَقَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَاسْتَسْقَى، وَوَصَفَ حَمَّادٌ: بَسَطَ يَدَيْهِ حِيَالَ صَدْرِهِ وَبَطْنُ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ، وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ، فَمَا انْصَرَفَ حَتَّى أَهَمَّتْ الشَّابَّ الْقَوِيَّ نَفْسُهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَمُطِرْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَ الْبُنْيَانُ، وَانْقَطَعَ الرُّكْبَانُ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِطَهَا عَنَّا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، فَانْجَابَتْ حَتَّى كَانَتِ الْمَدِينَةُ كَأَنَّهَا فِي إِكْلِيلٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13867]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3582، م: 897
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3582، م: 897
حدیث نمبر: 13868 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أُخْبِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ بِقُدُومِهِ وَهُوَ فِي نَخْلِهِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ، فَإِنْ أَخْبَرْتَنِي بِهَا آمَنْتُ بِكَ، وَإِنْ لَمْ تَعْلَمْهُنَّ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عَنِ الشَّبَهِ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا، قَالَ: ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ! قَالَ:" أَمَّا الشَّبَهُ: إِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ، ذَهَبَ بِالشَّبَهِ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ، ذَهَبَتْ بِالشَّبَهِ، وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ: فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، فَتَحْشُرُهُمْ إِلَى الْمَغْرِبِ"، فَآمَنَ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ سَلَامٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ، وَإِنَّهُمْ إِنْ سَمِعُوا بِإِسْلَامِي يَبْهَتُونِي، فَأَخْبِئْنِي عِنْدَكَ وَابْعَثْ إِلَيْهِمْ، فَاسْأَلَهُمْ عَنِّي، فَخَبَّأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَجَاءُوا، فَقَالَ: أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ؟ قَالُوا: هُوَ خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا، وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا، وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا، فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ، تُسْلِمُونَ؟" فَقَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ، اخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ"، فَخَرَجَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا، وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا، فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرائیل نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی '' عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، یہ سن کر عبداللہ کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں، اگر انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو وہ آپ کے سامنے مجھ پر طرح طرح کے الزام لگائیں گے، اس لئے آپ ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں بلائیے اور میرے متعلق ان سے پوچھئے کہ تم میں ابن سلام کیسا آدمی ہے؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن سلام تم میں کیسا آدمی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سب سے بہتر ہے اور سب سے بہتر کا بیٹا ہے، ہمارا عالم اور عالم کا بیٹا ہے، ہم میں سب سے بڑا فقیہہ ہے اور سب سے بڑے فقیہہ کا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم بھی اسلام قبول کرلو گے؟ وہ کہنے لگے اللہ اسے بچا کر رکھے، اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر نکل آئے اور ان کے سامنے کلمہ پڑھا، یہ سن کر وہ کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر کا بیٹا ہے اور ہم میں جاہل اور جاہل کا بیٹا ہے، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے تو آپ کو پہلے ہی بتایا دیا تھا کہ یہودی بہتان باندھنے والی قوم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3329
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3329
حدیث نمبر: 13869 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ فَارِسِيًّا كَانَ جَارًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ هَكَذَا، وَصَفَ حَمَّادٌ بِيَدِهِ: أَيْ: تَعَالَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، وَعَائِشَةُ مَعِي يُومِئُ إِيمَاءً، فَقَالَ الرَّجُلُ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَوَصَفَ حَمَّادٌ: أَيْ: لَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا، أَيْ: لَا، قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِ: أَنْ تَعَالَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، يَقُولُ ذا كَذَا، وَذا كَذَا، ووَصَفَ حَمَّادٌ: ذا، أَيْ: لَا، وَيَقُولُ ذَا، أَيْ: لَا، فَقَالَ هَكَذَا، أَيْ: قُومَا، فَذَهَبَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چنانچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2037
الحكم: إسناده صحيح، م: 2037
حدیث نمبر: 13870 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ كَانَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ، فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا، فَجَعَلَا يَمْشِيَانِ فِي ضَوْئِهَا، فَلَمَّا تَفَرَّقَا، أَضَاءَتْ عَصَا الْآخَرِ" وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا:" فَلَمَّا تَفَرَّقَا، أَضَاءَتْ عَصَا ذَا، وَعَصَا ذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشیر رضی اللہ عنہ اپنے کسی کام سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3805 معلقا، وبنحوه برقم : 465
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3805 معلقا، وبنحوه برقم : 465
حدیث نمبر: 13871 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ حَارِثَةَ ابْنَ الرُّبَيِّعِ جَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَّارًا، وَكَانَ غُلَامًا، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَوَقَعَ فِي ثُغْرَةِ نَحْرِهِ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ الرُّبَيِّعُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَ حَارِثَةَ مِنِّي، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَسَأَصْبِرُ، وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَقَالَ: يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر میں حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ " جو کہ نوعمر لڑکے تھے " سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13871]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6567
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6567
حدیث نمبر: 13872 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَبُّكُمْ:" إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوتا جاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13872]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7536
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7536
حدیث نمبر: 13873 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ، أَمْ كَانَ يَقُولُهُ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَقَالَ حَجَّاجٌ: لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ، لَتَمَنَّى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، مجھے معلوم نہیں کہ آیت تھی یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13873]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر لزاما: 12228
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6440، م: 1048، وانظر لزاما: 12228
حدیث نمبر: 13874 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ: لِجَارِهِ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ، وَلَمْ يَشُكَّ حَجَّاجٌ: حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
الحكم: إسناده صحيح، خ: 13، م: 45
حدیث نمبر: 13875 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِلنَّاسِ، مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ، وَحَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ، لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور کسی انسان سے اگر محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 21، م: 43، وهو قطعة من حديث سلف برقم: 12765
الحكم: إسناده صحيح، خ: 21، م: 43، وهو قطعة من حديث سلف برقم: 12765
حدیث نمبر: 13876 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ اللَّهَ، رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهَا بِيَدِهِ، وَاضِعًا قَدَمَهُ يَعْنِي عَلَى صَفْحَتِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13876]
حکم دارالسلام
أسانيده صحيحة، خ: 5558، م: 1966، وانظر ما بعده
الحكم: أسانيده صحيحة، خ: 5558، م: 1966، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 13877 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13877]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 13878 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٌ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 13879 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں، لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، اس لئے تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13879]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3801، م: 2510
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3801، م: 2510
حدیث نمبر: 13880 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَجَلَدَهُ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ"، وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ، اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِيْنَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ حَجَّاجٌ: ثَمَانُونَ، وَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تقریباً چالیس مرتبہ دو ٹہنیوں سے مارا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا لیکن جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق مشورہ کیا، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد اسی کوڑے ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13880]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6773، م: 1706
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6773، م: 1706
حدیث نمبر: 13881 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَالْحَجَّاجُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَالْحَجَّاجُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، أن أصحاب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ:" قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ"، وقَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ: هَلْ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13881]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6258، م: 2163