عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ فَارِسِيًّا كَانَ جَارًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ هَكَذَا، وَصَفَ حَمَّادٌ بِيَدِهِ: أَيْ: تَعَالَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، وَعَائِشَةُ مَعِي يُومِئُ إِيمَاءً، فَقَالَ الرَّجُلُ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَوَصَفَ حَمَّادٌ: أَيْ: لَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا، أَيْ: لَا، قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِ: أَنْ تَعَالَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، يَقُولُ ذا كَذَا، وَذا كَذَا، ووَصَفَ حَمَّادٌ: ذا، أَيْ: لَا، وَيَقُولُ ذَا، أَيْ: لَا، فَقَالَ هَكَذَا، أَيْ: قُومَا، فَذَهَبَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چنانچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2037
الحكم: إسناده صحيح، م: 2037