بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 40 از 109
حدیث نمبر: 12721 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ، وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12721]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6421، م: 1047
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6421، م: 1047
حدیث نمبر: 12722 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قال: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ" أَوْ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ" قَالَ شُعْبَةُ: فَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ هَذَا فِي قَصَصِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12722]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3795، م: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3795، م: 1805
حدیث نمبر: 12723 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي صَدَقَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ وَأَثْنَى عَلَيْهِ شُعْبَةُ خَيْرًا، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو صدقہ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے وقت پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروب آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہوجانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12723]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 12724 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یسار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنائی رحمہ اللہ کے ساتھ جارہا تھا، راستے میں ان کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، انہوں نے انہیں سلام کیا اور فرمایا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر کچھ بچوں پر ہوا، جو کھیل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6247، م: 2168
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6247، م: 2168
حدیث نمبر: 12725 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: شُعْبَةُ أَخبَرَنَاهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا قَالَ هِشَامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: فِي آذَانِهَا، وَلَمْ يَشُكَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکری کے کان پر داغ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12725]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5542، م: 2119
حدیث نمبر: 12726 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَبِي الْأَبْيَضِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12726]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 12727 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ شَهِدْتَهُ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ، لَا تُحَدِّثْنَا بِهِ عَنْ غَيْرِكَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، وَقَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَالَ" مَنْ كَانَ لَهُ أَهْلٌ يُعِيذُ بِالْمَدِينَةِ، لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ، وَيُصِيبَ مِنَ الْوَضُوءِ" وَبَقِيَ نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهْلُونَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ أَرْوَحَ، فِي أَسْفَلِهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْقَدَحِ فَمَا وَسِعَتْ كَفَّهُ، فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَ، ثُمَّ قَالَ:" ادْنُوا فَتَوَضَئُوا" قَالَ: فَتَوَضَّئُوا، حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، كَمْ تُرَاهُمْ كَانُوا؟ قَالَ: بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! ہمیں کوئی ایسا عجیب واقعہ بتائیے، جس میں آپ خود موجود ہوں اور آپ کسی کے حوالے سے اسے بیان نہ کرتے ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور جا کر اس جگہ پر بیٹھ گئے جہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آکر عصر کی اذان دی، ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو۔ میں نے پوچھا اے ابوحمزہ! آپ کی رائے میں وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے فرمایا ستر سے اسی کے درمیان۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
حدیث نمبر: 12728 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12728]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2041
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2041
حدیث نمبر: 12729 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشُ ، حُدِّثْتُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے لوگ مؤذن ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12729]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الواسطة بين الأعمش وأنس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الواسطة بين الأعمش وأنس
حدیث نمبر: 12730 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَقَالُوا: هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، فَقَالَ:" أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قریش کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جارہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دی، جب وہ سب جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کے حوالے سے مجھے کیا باتیں معلوم ہو رہی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ بات ٹھیک ہے اور انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، اگر سارے لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12730]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4330، م: 1059
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4330، م: 1059
حدیث نمبر: 12731 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا دَعَا رَجُلًا فِي السُّوقِ، فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا عَنَيْتُ رَجُلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابوالقاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12731]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2120
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2120
حدیث نمبر: 12732 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَتْ الْأَنْصَارُ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا فَأَجَابَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کہا کرتے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواباً فرمایا کرتے تھے اے اللہ! آخرت کی خیر ہی اصل خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12732]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2961، م: 1805
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2961، م: 1805
حدیث نمبر: 12733 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سعيد ، وَالْخُفَّافُ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سعيد ، وَالْخُفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں بخدا! تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 742، م: 425
الحكم: إسناده صحيح، خ: 742، م: 425
حدیث نمبر: 12734 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وأَسْبَاطٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وأَسْبَاطٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12734]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 706، م: 469
الحكم: إسناده صحيح، خ: 706، م: 469
حدیث نمبر: 12735 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أخبرنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا: اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2754، م: 1323
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2754، م: 1323
حدیث نمبر: 12736 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، أقرَنَيْن، يُذَكِّيهِمَا بِيَدِهِ، وَيَطَأُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، ويُسَمِّي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12736]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5558، م: 1966
حدیث نمبر: 12737 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ،" فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، ففَعَلُوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12737]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4192، م: 1671
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4192، م: 1671
حدیث نمبر: 12738 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى نَاسٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِمِ، قِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، قَالَ: فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، نَقْشُهُ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَصِيصِهِ أَوْ بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12738]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5872، م: 2092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5872، م: 2092
حدیث نمبر: 12739 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُورِهِمَا، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا وَسُحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ رَجُلٌ خَمْسِينَ آيَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اکٹھے سحری کی، سحری سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے کہ سحری سے فراغت اور نماز کھڑی ہونے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:1134
الحكم: إسناده صحيح، خ:1134
حدیث نمبر: 12740 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُوَاصِلُوا" فَقِيلَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنَّ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر: 12248
الحكم: إسناده صحيح، وانظر: 12248