مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى نَاسٍ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِمِ، قِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، قَالَ: فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، نَقْشُهُ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَصِيصِهِ أَوْ بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم " [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12738]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5872، م: 2092
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5872، م: 2092