مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُورِهِمَا، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا وَسُحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ رَجُلٌ خَمْسِينَ آيَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اکٹھے سحری کی، سحری سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے کہ سحری سے فراغت اور نماز کھڑی ہونے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12739]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:1134
الحكم: إسناده صحيح، خ:1134