بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 19 از 109
حدیث نمبر: 12301 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْتَهَيْتُ إِلَى السِّدْرَةِ، فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ الْجِرَارِ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ، فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا، تَحَوَّلَتْ يَاقُوتًا أَوْ زُمُرُّدًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں سدرۃ المنتہیٰ پہنچا تو دیکھا کہ اس کے پھل مٹکے برابر اور پتے ہاتھی کے کان برابر ہیں، جب اسے اللہ کے حکم سے اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا تو وہ یاقوت اور زمرد میں تبدیل ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12301]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر : 12505
الحكم: إسناده صحيح، وانظر : 12505
حدیث نمبر: 12302 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّةَ أَنَسٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا إِلَى الْقَوْمِ الْعَفْوَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" الْقِصَاصُ"، قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَكْسِرُ ثَنِيَّةَ فُلَانَةَ؟!، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَنَسُ، كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ"، قَالَ: فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ، قَالَ: فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا وَتَرَكُوا الْقِصَاصَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ أَبَرَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، انس بن نضر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا فلاں (میری بہن) کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، وہ کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، فلاں عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا، اسی اثناء میں وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کردیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12302]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2806 ، م: 1675
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2806 ، م: 1675
حدیث نمبر: 12303 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَارُودٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَارُودٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي طَعَامًا، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي، وَتُصَلِّيَ فِيهِ، قَالَ: فَأَتَى وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12303]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
حدیث نمبر: 12304 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ؟"، قَالَ: فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، وَقَالَ: أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ؟! قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ، أَوْ قَالَ: قَتَلْتُمُوهُ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مارمار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12304]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3963 ، م: 1800
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3963 ، م: 1800
حدیث نمبر: 12305 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، هِشَامٍ ، عَفَّانُ ، هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: عَفَّانُ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَفَّانُ: مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت (اپنے بچے کے ساتھ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے تخلیہ میں فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12305]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5234 ، م: 2509
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5234 ، م: 2509
حدیث نمبر: 12306 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ:" إِنَّكُمْ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کے متعلق فرمایا تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12306]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 12307 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَهْل أبي الْأَسَدِ ، بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَهْل أبي الْأَسَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ؟ إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ، وَنَحْنُ فِيهِ، فَقَالَ:" الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ، مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بکیر بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں ہر ایک سے بیان نہیں کرتا اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے، ہم اس کے اندر تھے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق بنتا ہے اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب ان سے لوگ رحم کی درخواست کریں تو رحم کا معاملہ کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں، فیصلہ کریں تو انصاف کریں، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12307]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا اسناد ضعيف لجهالة بكير بن وهب الجزري
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا اسناد ضعيف لجهالة بكير بن وهب الجزري
حدیث نمبر: 12308 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ يَنْفَعُكَ بِهِ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا" لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ"، قَالَ: فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟، قَالَ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا میں تم سے ایک حدیث بیان کروں کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے اور وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔ حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دریائے نیل کے کنارے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی، میرے اور ان کے درمیان محمد بن عمرو تھے، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12308]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12309 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، حَمْزَةُ الضَّبِّيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الضَّبِّيُّ ، قَالَ: لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِفَمِ النِّيلِ، وَمَشَى وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ: فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله، والنيل: المراد به هنا نهر متفرع من الفرات الي دجلة، وهذا النهر يعرف اليوم بشط النيل، وكان عليه قديما مدينة تعرف باسمه، انظر: «بلدان الخلافة الشرقية» صفحة : 99,98 و معجم البلدان: 334/5
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله، والنيل: المراد به هنا نهر متفرع من الفرات الي دجلة، وهذا النهر يعرف اليوم بشط النيل، وكان عليه قديما مدينة تعرف باسمه، انظر: «بلدان الخلافة الشرقية» صفحة : 99,98 و معجم البل
حدیث نمبر: 12310 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، أَبِي فَزَارَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ؟، قَالَ: كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ قَالَ بَعْدُ وَسَأَلْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَقَالَ: كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا، وَلَمْ يَقُلْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوفزارہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ان کی طرف سبقت کیا کرتے تھے، اس کے بعد دوبارہ پوچھا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت کا تذکرہ نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12310]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 625 ، م: 836
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 625 ، م: 836
حدیث نمبر: 12311 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي صَدَقَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: كَانَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوصدقہ " کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے بعد پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروب آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہوجانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12311]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
حدیث نمبر: 12312 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ؟، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک جہنمی سے " جسے سب سے ہلکا عذاب ہوگا " کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا میں نے آدم کی پشت میں تجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے لیکن تو شرک کئے بغیر نہ مانا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12312]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6557 ، م: 2805
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6557 ، م: 2805
حدیث نمبر: 12313 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ؟، قَالَ: كُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ، فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ، وَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ، أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاكُّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا جب میں کوفہ کی طرف نکلتا تھا تو واپسی تک دو رکعتیں ہی پڑھتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12313]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 691
الحكم: إسناده حسن، م: 691
حدیث نمبر: 12314 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6292 ، م: 376
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6292 ، م: 376
حدیث نمبر: 12315 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَغْتَسِلُ هُوَ وَامْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12315]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 264
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 264
حدیث نمبر: 12316 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12316]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 17 ، م: 74
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 17 ، م: 74
حدیث نمبر: 12317 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہی ہوتا ہے (اس کے بعد تو سب ہی کو صبر آجاتا ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12317]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1302 ، م: 926
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1302 ، م: 926
حدیث نمبر: 12318 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ قَدْ دُفِنَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جو دفن ہوچکی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12318]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 955
الحكم: إسناده حسن، م: 955
حدیث نمبر: 12319 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ:" إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو ایک گز کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو اللہ کے پاس چل کر آتا ہے، اللہ اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7536
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7536
حدیث نمبر: 12320 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا، قَالَ: وَسَمَّانِي لَكَ؟، قَالَ: نَعَمْ"، فَبَكَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ " الم یکن الذین کفروا " والی سورت تمہیں پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! یہ سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3809 ، م: 799
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3809 ، م: 799