مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي صَدَقَةَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: كَانَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوصدقہ " کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے بعد پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروب آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہوجانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12311]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد قوي