بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2170
صفحہ 14 از 109
حدیث نمبر: 12201 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَيُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ، فَيُكَلِّمُهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے بات کرلیتے تھے، پھر بڑھ کر مصلیٰ پر چلے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12201]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12202 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ، وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 6421 ، م: 1047
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 6421 ، م: 1047
حدیث نمبر: 12203 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، عَتَّابٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَقَالَ: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں حسب طاقت کی قید لگا دی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12203]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 12204 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ"، قَالَ: فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟، قَالَ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر : 12111
الحكم: إسناده صحيح، وانظر : 12111
حدیث نمبر: 12205 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو خُزَيْمَةَ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو اس طرح دعاء کرتے ہوئے سنا کہ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12205]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو خزيمة: ان كان هو العبدي نصر بن مرداس، فالإسناد حسن، وإن كان يوسف بن ميمون الصباغ، فالإسناد ضعيف، وعلي كلا الحالين، فالحديث صحيح بطرقه
الحكم: حديث صحيح، أبو خزيمة: ان كان هو العبدي نصر بن مرداس، فالإسناد حسن، وإن كان يوسف بن ميمون الصباغ، فالإسناد ضعيف، وعلي كلا الحالين، فالحديث صحيح بطرقه
حدیث نمبر: 12206 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کو مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12206]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2280 ، م: 1577
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2280 ، م: 1577
حدیث نمبر: 12207 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ، قَالَ:" تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَشْرًا، وَتَحْمَدِينَهُ عَشْرًا، وَتُكَبِّرِينَهُ عَشْرًا، ثُمَّ سَلِي حَاجَتَكِ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: قَدْ فَعَلْتُ، قَدْ فَعَلْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئے جن کے ذریعے میں دعاء کرلیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر اپنی ضرورت کا اللہ سے سوال کرو، اللہ فرمائے گا کہ میں نے تمہارا کام کردیا، میں نے تمہارا کام کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12207]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 12208 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الْمَاجِشُونَ ، صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، الْنُمَيْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الْمَاجِشُونَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ الْنُمَيْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ افْتَرَقَتْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَأَنْتُمْ تَفْتَرِقُونَ عَلَى مِثْلِهَا، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا فِرْقَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور تم بھی اتنے ہی فرقوں میں تقسیم ہوجاؤ گے اور سوائے ایک فرقے کے سب جہنم میں جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12208]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهد، وهذا اسناد ضعيف لضعف زياد بن عبدالله النميري
الحكم: حديث صحيح بشواهد، وهذا اسناد ضعيف لضعف زياد بن عبدالله النميري
حدیث نمبر: 12209 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد بڑھ نہ جائے، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12209]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 81 ، م: 2671
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 81 ، م: 2671
حدیث نمبر: 12210 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى، فَرَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12210]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م: 2375
الحكم: إسناده صحيح ، م: 2375
حدیث نمبر: 12211 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟، قَالُوا: خُطَبَاءُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ، وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ، أَفَلَا يَعْقِلُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12211]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، لكن قد توبع
الحكم: حديث صحيح ، وهذا اسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان، لكن قد توبع
حدیث نمبر: 12212 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَأُخِفْتُ مِنَ اللَّهِ، وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثَةٌ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَمَا لِي وَلِعِيَالِي طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا مَا يُوَارِي إِبِطَ بِلَالٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ستایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ستایا گیا اور اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ تین دن اور تین راتیں گزر گئیں اور میرے پاس اپنے لئے اور اپنے اہل خانہ کے لئے اتنا کھانا بھی نہ تھا کہ جسے کوئی جگر رکھنے والا جاندار کھا سکے، سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وفي الحديث التالي: "أتت على ثلاثون من بين يوم وليلة"
الحكم: إسناده صحيح، وفي الحديث التالي: "أتت على ثلاثون من بين يوم وليلة"
حدیث نمبر: 12213 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں تیس دن رات کا ذکر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12213]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12214 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَ يُخْتَمُ لَهُ، فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ، أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ، بِعَمَلٍ صَالِحٍ، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا سَيِّئًا، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرٍ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ؟، قَالَ:" يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ، ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کیا کرو، جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے؟ کیونکہ بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہو جائے تو جنت میں داخل ہو جائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مر جائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے اس کی موت سے پہلے استعمال فرماتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں۔ پھر اس کی روح قبض کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12214]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12215 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِينَا يَعْنِي عَظُمَ، فَكَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يُمْلِي عَلَيْهِ غَفُورًا رَحِيمًا، فَيَكْتُبُ عَلِيمًا حَكِيمًا، فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ:" اكْتُبْ كَذَا وَكَذَا، اكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ"، وَيُمْلِي عَلَيْهِ عَلِيمًا حَكِيمًا، فَيَقُولُ: أَكْتُبُ سَمِيعًا بَصِيرًا؟، فَيَقُولُ:" اكْتُبْ اكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ"، فَارْتَدَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ، وَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِمُحَمَّدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَكْتُبُ مَا شِئْتُ، فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْأَرْضَ لَمْ تَقْبَلْهُ"، وقَالَ أَنَسٌ: فَحَدَّثَنِي أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهُ أَتَى الْأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَوَجَدَهُ مَنْبُوذًا، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: مَا شَأْنُ هَذَا الرَّجُلِ؟، قَالُوا: قَدْ دَفَنَّاهُ مِرَارًا، فَلَمْ تَقْبَلْهُ الْأَرْضُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، وہ آدمی جب بھی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کرتا تو ہم میں بہت آگے بڑھ جاتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے «غفوراً الرحيما» لکھواتے اور وہ اس کی جگہ "" علیما حکیما "" لکھ دیتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے اس اس طرح لکھو، لیکن وہ کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے «عليما حكيما» لکھواتے تو وہ اس کی جگہ «سميعا بصيرا» لکھ دیتا اور کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں، کچھ عرصے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا اور کہنے لگا کہ میں تم سب میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑا عالم ہوں، میں ان کے پاس جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا، جب وہ آدمی مرا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ اس جگہ پر گئے تھے جہاں وہ آدمی مرا تھا، انہوں نے اسے باہر پڑا ہوا پایا، لوگوں سے پوچھا کہ اس شخص کا ماجرا کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے کئی مرتبہ دفن کیا لیکن زمین اسے قبول نہیں کرتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12215]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781، وعامة الروايات فى هذا الحديث جاءت مطلقة غير مقيدة، وليس فيها أنه كان يكتب الوحي، وقد ذهب الطحاوي إلى أنه كان يكتب الرسائل يبعث بها رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فى دعائه إلى الإسلام، انظر شرح مشكل الآثار : 240,241/8
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3617، م: 2781، وعامة الروايات فى هذا الحديث جاءت مطلقة غير مقيدة، وليس فيها أنه كان يكتب الوحي، وقد ذهب الطحاوي إلى أنه كان يكتب الرسائل يبعث بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فى دعائه
حدیث نمبر: 12216 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ يُعَدُّ فِينَا عَظِيمًا، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12216]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 12217 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ يُنَادِي: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ" يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ"، قَالَ: فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے، چنانچہ ہانڈیاں الٹا دی گئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12217]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2991 ، م: 1940
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2991 ، م: 1940
حدیث نمبر: 12218 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ، فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلًا يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا عَنَيْتُ فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي"، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ" تَسَمَّوْا بِاسْمِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے ابو القاسم کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2121 ، م: 2131
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2121 ، م: 2131
حدیث نمبر: 12219 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَخَّرَ حَتَّى أَسْفَرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ فَصَلَّى، ثُمَّ دَعَا الرَّجُلَ، فَقَالَ:" مَا بَيْنَ هَذَا وَهَذَا وَقْتٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نماز فجر کا وقت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 12220 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ:" اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْبَدَ بَعْدَ الْيَوْمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ غزوہ حنین کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12220]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، و سيأتي من طريق ثابت 12538 أنه قال ذلك يوم أحد، وقد سلف فى مسند عمر 208 أنه قال يوم بدر: «اللهم إن تهلك هذه العصابة ......» قلنا : و لا يبعد أن يكون تكرر هذا الدعاء منه صلى الله عليه و آله وسلم فى هذه المواضع الثلاثة وفي غيرها، والله تعالى أعلم
الحكم: إسناده صحيح، و سيأتي من طريق ثابت 12538 أنه قال ذلك يوم أحد، وقد سلف فى مسند عمر 208 أنه قال يوم بدر: «اللهم إن تهلك هذه العصابة ......» قلنا : و لا يبعد أن يكون تكرر هذا الدعاء منه صلى الله عليه وسلم