يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي فِي حُجْرَتِهِ، فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَخَفَّفَ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي وَيَنْصَرِفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْنَا مَعَكَ الْبَارِحَةَ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ، فَقَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ، وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ رات کے وقت اپنے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز میں شریک ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز مختصر کرکے اپنے گھر تشریف لے گئے، ایسا کئی مرتبہ ہوا حتیٰ کہ صبح ہوگئی، تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نماز پڑھ رہے تھے، ہماری خواہش تھی کہ آپ اسے لمبا کردیتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر ہی ایسا کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13065]
الحكم: إسناده صحيح