مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَضَحِكَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ، فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنَةِ قَرَظَةَ، حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ، رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِهَا، فَسَقَطَتْ، فَمَاتَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنت ملحان کے گھر میں ٹیک لگائی، سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے ان لوگوں کو دیکھ کر ہنسی آئی جو اس سبز سمندر پر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے سوار ہو کر نکلیں گے اور وہ ایسے محسوس ہوں گے کہ گویا تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے دعاء فرما دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حق میں دعاء فرما دی کہ اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما۔ پھر ان کا نکاح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوگیا اور وہ اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، واپسی پر جب ساحل سمندر پر وہ اپنے جانور پر سوار ہوئیں تو وہ بدک گئی اور وہ اس سے گر کر فوت ہوگئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2877، م: 1912، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2877، م: 1912، وانظر ما بعده