بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13669
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13669
حدیث نمبر: 13669 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُودِ الَّذِي فِي مَقَامِ الْإِمَامِ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ يَذْكُرُ لَنَا فِيهِ شَيْئًا، قَالَ: مُصْعَبٌ: فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا؟ وَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَدْرِي لِمَ صُنِعَ، فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ عَلَيْهِ يَمِينَهُ، ثُمَّ يَلْتَفِتُ إِلَيْنَا، فَيَقُولُ: اسْتَوُوا وَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مصعب بن ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ پر ایک لکڑی تھی، ہم نے بہت کوشش کی کہ اس کے متعلق کسی سے کچھ معلوم ہوجائے لیکن ہمیں ایک آدمی بھی ایسا نہ ملا جو ہمیں اس کے متعلق کچھ بتاسکتا، اتفاقاً مجھے محمد بن مسلم صاحب مقصورہ نے بتایا کہ ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف فرما تھے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے؟ میں نے ان سے یہ سوال نہ پوچھا تھا، میں نے عرض کیا بخدا! مجھے معلوم نہیں کہ یہ کیوں رکھی گئی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر اپنا داہنا ہاتھ رکھ کر ہماری طرف متوجہ ہوتے تھے اور فرماتے تھے سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں برابر کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13669]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح لضعف مصعب بن ثابت وجهالة محمد بن مسلم بن السائب، وأما الأمر بتسویة الصفوف فقد سلف بأسانید صحيحة ، انظر: 12011
الحكم: إسناده صحيح لضعف مصعب بن ثابت وجهالة محمد بن مسلم بن السائب، وأما الأمر بتسویة الصفوف فقد سلف بأسانید صحيحة ، انظر: 12011
← پچھلی حدیث (13668) باب پر واپس اگلی حدیث (13670) →