ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ آتِكُمْ ضُلَّالًا، فَهَدَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِي، أَلَمْ آتِكُمْ مُتَفَرِّقِينَ، فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي، أَلَمْ آتِكُمْ أَعْدَاءً، فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَفَلَا تَقُولُونَ جِئْتَنَا خَائِفًا , فَآمَنَّاكَ، وَطَرِيدًا فَآوَيْنَاكَ، وَمَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ"، فَقَالُوا: بَلْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمَنُّ بِهِ عَلَيْنَا، وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ انصار سے فرمایا اے گروہ انصار! کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم بےراہ تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت عطاء فرمائی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تو تم آپس میں متفرق تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں اکٹھا کیا؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب میں تمہارے پاس آیا تھا تو تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اللہ نے میرے ذریعے سے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا پھر تم یہ نہیں کہتے کہ آپ ہمارے پاس خوف کی حالت میں آئے تھے، ہم نے آپ کو امن دیا، آپ کی قوم نے آپ کو نکال دیا تھا، ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ بےیارومددگار ہوچکے تھے، ہم نے آپ کی مدد کی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ہم پر اللہ اور اس کے رسول کا ہی احسان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12021]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح