أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ،" فَرَأَى قُبَّةً مِنْ لَبِنٍ، فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ: لِفُلَانٍ. فَقَالَ: أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ هَدٌّ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ، أَوْ فِي بِنَاءِ مَسْجِدٍ، شَكَّ أَسْوَدُ، أَوْ، أَوْ، أَوْ، ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ يَرَهَا، فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ الْقُبَّةُ؟ قُلْتُ: بَلَغَ صَاحِبَهَا مَا قُلْتَ، فَهَدَمَهَا. قَالَ: فَقَالَ: رَحِمَهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے سے گذر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہاں اینٹوں سے بنا ہوا ایک مکان نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ میں نے عرض کیا فلاں صاحب کا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! مسجد کے علاوہ ہر تعمیر قیامت کے دن انسان پر بوجھ ہوگی، کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوبارہ وہاں سے گذر ہوا تو وہاں مکان نظر نہ آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اس مکان کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے مالک کو آپ کی بات معلوم ہوئی تو اس نے اسے منہدم کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو دعاء دی کہ اللہ اس پر رحم فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13301]
حکم دارالسلام
حدیث محتمل للتحسین لطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعیف لضعف شریک النخعی
الحكم: حدیث محتمل للتحسین لطرقہ وشواھدہ، وهذا إسناد ضعیف لضعف شریک النخعی