يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَيَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم:" يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ أَقْوَامٌ أَرَقُّ مِنْكُمْ أَفْئِدَةً"، فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى، فَجَعَلُوا لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرْتَجِزُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چنانچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12872]
الحكم: إسناده صحيح