هَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي، وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ لَنَا طَلِبَةً، فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا، فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا"، فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظَهْرٍ لَهُمْ فِي عُلْوِ المدينة، قَالَ:" لَا، إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا"، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُوذِنُهُ"، فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ"، قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، فَقَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟"، قَالَ: لَا وَاللَّهِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ:" فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا"، قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ، قَالَ: ثُمَّ رَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بسیسہ رضی اللہ عنہ کو ابوسفیان کے لشکر کی خبر لانے کے لئے جاسوس بنا کر بھیجا، وہ واپس آئے تو گھر میں میرے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ کوئی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکلے اور لوگوں سے اس حوالے سے بات کی اور فرمایا کہ ہم قافلے کی تلاش میں نکل رہے ہیں جس کے پاس سواری موجود ہو وہ ہمارے ساتھ چلے، کچھ لوگوں نے اجازت چاہی کہ مدینہ کے بالائی حصے سے اپنی سواری لے آئیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جس کی سواری موجود ہو وہ چلے (انتظار نہیں کریں گے) چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے بدر کے کنویں پر پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بھی میری اجازت کے بغیر کسی چیز کی طرف قدم آگے نہ بڑھائے، جب مشرکین قریب آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس جنت کی طرف لپکو جس کی صرف چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے، یہ سن کر عمیر بن حمام انصاری کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس پر وہ کہنے لگے واہ واہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کس بات پر واہ واہ کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ کی قسم صرف اس امید پر کہ میں اس کا اہل بن جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اہل جنت میں سے ہو، پھر عمیر اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے، پھر اچانک ان کے دل میں خیال آیا کہ اگر میں ان کھجوروں کو کھانے تک زندہ رہا تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی، چنانچہ وہ کھجوریں ایک طرف رکھ کر میدان کارزار میں گھس پڑے اور اتنا لڑے کہ بالآخر شہید ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12398]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1901
الحكم: إسناده صحيح، م: 1901