بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12615
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12615
حدیث نمبر: 12615 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، خَلَفٌ ، حَفْصٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: انْطُلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، لِيَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الظُّهرَ رَكْعَتينِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ، وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ، فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتْ السُّنَّةَ، وَلَا قَبِلَتْ الرُّخْصَةَ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَقْوَامًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ، يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ ہمارے لئے منتخب کرو جو میری خدمت کیا کرے، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر روانہ ہوئے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خادم بن گیا، خواہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہیں بھی منزل کرتے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کثرت سے یہ کہتے ہوئے سنتا تھا کہ اے اللہ! میری پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں مستقل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خادم رہا، ایک موقع پر جب ہم خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس وقت حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ بھی تھیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منتخب فرمایا تھا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے پیچھے کسی چادر یا عباء سے پردہ کرتے پھر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیتے، جب ہم مقام صہیاء میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حلوہ بنایا اور دستر خوان پر چن دیا، پھر مجھے بھیجا اور میں بہت سے لوگوں کو بلا لایا، ان سب نے وہ حلوہ کھایا، جو دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے اور جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12615]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وخلف بن خليفة متابع
الحكم: إسناده قوي، وخلف بن خليفة متابع
← پچھلی حدیث (12614) باب پر واپس اگلی حدیث (12616) →