حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَفَّانُ ، خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلْقَةِ وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمَّا رَكَعَ وَسَجَدَ، جَلَسَ وَتَشَهَّدَ، ثُمَّ دَعَا فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ، بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، إِنِّي أَسْأَلُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى"، قَالَ عَفَّانُ" دَعَا بِاسْمِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ) " اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں "۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12611]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، و خلف بن خليفة- وإن كان قد اختلط بأخرة- لم ينفرد بهذا الحديث، فقد توبع ، انظر: 12205
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، و خلف بن خليفة- وإن كان قد اختلط بأخرة- لم ينفرد بهذا الحديث، فقد توبع ، انظر: 12205