عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، وَأَعْرَابِيٌّ يَسْأَلُهُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَعْضِ حُجَرِهِ، فَجَذَبَهُ جَذْبَةً حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ، وَحَتَّى تَغَيَّبَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مِنْ تَغْيِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ لَهُ بِشَيْءٍ فَأُعْطِيَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی، راستے میں ایک دیہاتی مل گیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر کو ایسے گھسیٹا کہ وہ پھٹ گئی اور اس کے نشانات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارک پر پڑگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں صرف یہی تبدیلی ہوئی کہ اسے کچھ دینے کا حکم دیا جو اسے دے دیا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3149، م: 1057