بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12019
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12019
حدیث نمبر: 12019 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟، فَقَالَ: قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَحَطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ، وَهَلَكَ الْمَالُ، قَالَ:" فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ"، فَاسْتَسْقَى، وَلَقَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا يُرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَة، فَمَا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ قَرِيبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ، وَاحْتُبِسَتْ الرُّكْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلَا عَلَيْنَا، فَتَكَشَّطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب دعاء سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابن آدم کی اکتاہٹ پر مسکرا پڑے اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے اردگرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 1013 ، م: 897
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 1013 ، م: 897
← پچھلی حدیث (12018) باب پر واپس اگلی حدیث (12020) →