يُونُسُ ، شَيْبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ، إِذْ عَرَضَ لِي نَهَرٌ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، قَالَ: فَأَهْوَى الْمَلَكُ بِيَدِهِ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ مِسْكًا أَذْفَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی، جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی، میں نے جبرائیل امین سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13156]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4964.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4964.