يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ، فَنَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَمْ أَعْنِكَ، قَالَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابو القاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12130]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2121 ، م: 2131
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2121 ، م: 2131