أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، قَالَ عَفَّانُ أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَامَ مَعَهُ يُنَاجِيهِ، حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ صَلَّى، وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عشاء کا وقت ہوگیا، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور راوی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12633]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 642، م: 376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 642، م: 376