عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" أَتَى أَبُو طَلْحَةَ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ، فَأَمَرَ بِهِ، فَصُنِعَ طَعَامًا، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَنَسُ، انْطَلِقْ، ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَادْعُهُ، وَقَدْ تَعْلَمُ مَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ يَدْعُوكَ إِلَى طَعَامِهِ، فَقَامَ، وَقَالَ لِلنَّاسِ: قُومُوا، فَقَامُوا، فَجِئْتُ أَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَضَحْتَنَا، قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ، فَلَمَّا انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ، قَالَ لَهُمْ: اقْعُدُوا، وَدَخَلَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ أُتِيَ بِالطَّعَامِ، تَنَاوَلَ فَأَكَلَ، وَأَكَلَ مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: قُومُوا وَلْيَدْخُلْ عَشَرَةٌ مَكَانَكُمْ، حَتَّى دَخَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَأَكَلُوا. قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: كَانُوا نَيِّفًا وَثَمَانِينَ، قَالَ: وَأَفْضَلَ لِأَهْلِ الْبَيْتِ مَا أَشْبَعَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دو مد جو لے کر آئے اور کھانا تیار کرنے کے لئے کہا، پھر مجھ سے کہا انس! جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلا لاؤ اور تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھی؟ یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔ میں نے جلدی سے گھر پہنچ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اپنے ساتھیوں کو بھی لے آئے، یہ سن کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو نے ہمیں رسوا کردیا، میں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کو رد نہیں کرسکا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ان کے گھر پہنچے تو فرمایا بیٹھ جاؤ، پھر دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ہمراہ تھے، پھر دس دس کر کے سب لوگوں نے وہ کھانا کھالیا اور خوب سیراب ہو کر سب نے کھایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسی سے کچھ اوپر اور اہل خانہ کے لئے بھی اتنا بچ گیا تھا کہ جس سے وہ سیراب ہوجائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13427]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5450، م: 2040، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5450، م: 2040، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم.