عَلِيٌّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" ثَارَتْ أَرْنَبٌ فَتَبِعَهَا النَّاسُ، فَكُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا، فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا، فَذُبِحَتْ ثُمَّ شُوِّيَتْ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ عَجُزَهَا، فَقَالَ: ائْتِ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَرْسَلَ إِلَيْكَ بِعَجُزِ هَذِهِ الْأَرْنَبِ، قَالَ: فَقَبِلَهُ مِنِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آگیا، بچے اس کی طرف دوڑے، لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13430]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي.