بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، وَحُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، وَحُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ قَالُوا: لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ، فَظَنَنْتُهُ لِي، فَإِذَا هُوَ لِعُمَرَ" قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَنِي يَا أَبَا حَفْصٍ أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا مَا أَعْرِفُ مِنْ غَيْرَتِكَ" قَالَ: قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَيْهِ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَغَارُ عَلَيْكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے پوچھا وہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اگر تمہاری غیرت کے بارے معلوم نہ ہوتا تو میں ضرور اس میں داخل ہوجاتا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں جس کسی کے سامنے غیرت کا اظہار کروں، آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12983]
الحكم: إسناده صحيح