بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12247
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12247
حدیث نمبر: 12247 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَقَالَ مَرَّةً: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ، تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ، قِيلَ لَهُ: إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَمُنَافِقٌ، أَيَعْجَلُ عَنِ الصَّلَاةِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلِهِ!، قَالَ: فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا طَوَّلَ، تَجَوَّزْتُ فِي صَلَاتِي وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ، فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ:" أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟! لَا تُطَوِّلْ بِهِمْ، اقْرَأْ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَنَحْوِهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، ایک مرتبہ وہ نماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت حرام رضی اللہ عنہ " جو اپنے باغ کو پانی لگانے جا رہے تھے " نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تو نماز لمبی کر رہے ہیں تو وہ اپنی نماز مختصر کر کے اپنے باغ کو پانی لگانے چلے گئے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے منہ سے نکل گیا کہ وہ منافق ہے اپنے باغ کو سیراب کرنے کے لئے نماز سے جلدی کرتا ہے۔ اتفاق سے حضرت حرام رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو وہاں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، حضرت حرام رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی! میں اپنے باغ کو پانی لگانے کے لئے جا رہا تھا، باجماعت نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوا، جب انہوں نے نماز لمبی کردی تو میں مختصر نماز پڑھ کر اپنے باغ کو پانی لگانے چلا گیا، اب ان کا خیال یہ ہے کہ میں منافق ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کردو مرتبہ فرمایا کیا تم لوگوں کو امتحان ڈالتے ہو؟ انہیں لمبی نماز نہ پڑھایا کرو، سورت اعلیٰ اور سورت شمس وغیرہ سورتیں پڑھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12247]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (12246) باب پر واپس اگلی حدیث (12248) →