يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَحَرْثٌ وَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَامِنُونِي"، فَقَالُوا: لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، وَبِالْحَرْثِ فَأُفْسِدَ، وَبِالْقُبُورِ فَنُبِشَتْ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ" يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ"، وحَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جگہ در اصل بنو نجار کی تھی، ایک درخت، کھیت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر درختوں کو کاٹ دیا گیا، کھیت اجاڑ دیا گیا اور قبروں کو اکھاڑ دیا گیا اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12242]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 234 ، م: 524
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 234 ، م: 524