يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا ابْنِي، وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ، قَالَ:" فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چنانچہ میں نے نو سال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2768 ، م: 2309