مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيقَهُ، أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا" قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ" لَا" قَالَ: فَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی اپنے دوست سے ملے تو کیا اس سے جھک کر مل سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، سائل نے پوچھا کیا اس سے چمٹ کر اسے بوسہ دے سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، سائل نے پوچھا کہ مصافحہ کرسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگر چاہے تو مصافحہ کرسکتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13044]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حنظلة بن عبدالله السدوسي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حنظلة بن عبدالله السدوسي