أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ، ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ؟، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي، فَقَالَ: ادْعُ بِتِلْكَ الشَّجَرَةِ، فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي، حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَسْبِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت غمگین بیٹھے تھے اور خون میں لت پٹ تھے، کچھ اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مارا تھا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو ایک معجزہ دکھاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے آواز دی تو وہ چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوگیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اب اسے واپس جانے کا حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حکم دیا تو وہ واپس چلا گیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یہی کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12112]
الحكم: اسناد قوي