أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ، أَقَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ كَذَبُوا، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى نَاسٍ قَتَلُوا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عاصم احول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد؟ انہوں نے فرمایا رکوع سے پہلے، میں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ غلط کہتے ہیں، وہ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف ایک ماہ تک پڑھی تھی، جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے قراء صحابہ کو شہید کرنے والے لوگوں کے خلاف بددعاء فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1002، م: 677
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1002، م: 677