حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَحَذَّرَ النَّاسَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْنَا لَهُ: اقْعُدْ، فَإِنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَكْرَهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى، فَأَجْلَسْنَاهُ، قَالَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَيْحَكَ، وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ الرجلُ: أَعْدَدْتُ لَهَا حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْلِسْ، فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو ڈرایا، اسی اثناء میں ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور پر ناگواری کے آثار نظر آئے تو ہم نے اس سے کہا کہ بیٹھ جاؤ، تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسا سوال پوچھا ہے جو انہیں اچھا نہیں لگا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا اے بھئی! تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے یہ تیاری کی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12703]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وانظر: 12013
الحكم: إسناده قوي، وانظر: 12013