بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12044
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12044
حدیث نمبر: 12044 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثْتُكُمْ"، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي؟، قَالَ" أَبُوكَ حُذَافَةُ"، فَقَالَتْ أُمُّهُ: مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا؟، قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَرِيحَ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ فِيهِ، قَالَ حُمَيْدٌ: وَأَحْسَبُ هَذَا عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے متعلق تم مجھ سے اس وقت تک سوال نہ کیا کرو جب تک میں تم سے خود بیان نہ کر دوں، اس کے باوجود عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں۔ بہرحال! ان کے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ناراض ہوگئے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش اور مطمئن ہیں اور ہم اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 93 ، م: 2359
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 93 ، م: 2359
← پچھلی حدیث (12043) باب پر واپس اگلی حدیث (12045) →