بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12058
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12058
حدیث نمبر: 12058 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، نَادَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْهَزَمُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَى"، قَالَ: فَأَتَاهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَعَهَا مِعْوَلٌ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟، قَالَتْ: إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَعَجْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ حنین کے دن مسلمان ابتدائی طور پر شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے پکار کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! جو لوگ ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، انہیں قتل کروا دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ کافی ہے، تھوڑی دیر بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ام سلیم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک کدال تھی، انہوں نے پوچھا ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، یہ سن کر وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! دیکھیں تو سہی کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1809 ، قوله: «اقتل من بعدنا انهزموا» يوضحه رواية اسحاق برقم : 12977 ففيها : «اقتل من بعدنا من الطلقاء، انهزموا بك»
الحكم: إسناده صحيح، م: 1809 ، قوله: «اقتل من بعدنا انهزموا» يوضحه رواية اسحاق برقم : 12977 ففيها : «اقتل من بعدنا من الطلقاء، انهزموا بك»
← پچھلی حدیث (12057) باب پر واپس اگلی حدیث (12059) →